14 ستمبر 2012 - 19:30

روس کے وزير خارجہ نے سلامتي کونسل کو بائي پاس کرکےشام ميں فوجي مداخلت کي غرض سے کي جانے والي کوششوں کو عالمي نظام کے لئے خطرناک قررار ديا ہے-

ابنا: سرگئي لاو روف نے ايک پريس کانفرنس ميں کہا ہے کہ  بعض ممالک سلامتي کونسل پر اپني رائے ٹھونسنے اور شام کے بحران کے پرامن حل کي راہ ميں روکاوٹيں  کھڑي کرنے کي کوشش کررہے ہيں –  روس کے وزير خارجہ نے شام ميں تشدد کي مخالفت کرتے ہوئے يہ بات زور ديکر کہي کہ شام کے بحران کو معاملےکے فريقوں کے درميان مذاکرات کے ذريعے ہي حل کيا جانا چاہيے-سرگئي لاروف نے کہا کہ انکا ملک  شام کے بارے ميں صرف اسي عالمي فيصلے کو قبول کرے گا جس ميں غيرجانبداري کو مدنظر رکھا گيا ہو-انہوں نے کہا کہ  شام کے حوالے سے پيش کي جانے والي  راہ حل ايسي ہوني چاہيئے جس ميں اس ملک کي ارضي سالميت متاثر نہ ہو اور فوج مداخلت کا سبب نہ بنے-روس کے وزير خارجہ نے مغرب کو شام کے معاملے کي پرامن راہ حل کے حوالے سے آنے والے ڈيڈلاک کا ذمہ دار قرار ديا- انہوں نے کہا کہ مغرب شام ميں حکومت کي تبديلي چاہتا ہے اور اسي لئے وہ مخالفين کو شام کي حکومت سے بات چيت سے منع کر رہا ہے –سرگئي لاو روف کا کہنا تھا کہ مغرب کے اس طرح کے اقدامات کے نتيجے ميں شامي عوام کے رنج و الم ميں اضافے کے سوا کوئي اور نتيجہ برآمد نہيں ہوگا-واضح رہے کہ شام ميں غير ملکي حمايت يافتہ دہشتگرد مارچ دوہزار گيارہ سے بدامني پھيلانے ميں مصروف ہيں ہيں جس کا مقصد  اس ملک ميں بيروني فوجي مداخلت کا راستہ ہموار کرنا ہے-...../169